زندگی کی کلید: 365 اقتباسات میں
The Key to Life: In 365 Quotes
Urdu Translation
Van Trinh


زندگی کی کنجی: 365 اقوال میں - دورِجدید میں رہنمائی کی بہترین ہینڈگائیڈ ہے، اور جادوئی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس میں آپ سقراط سے لے کر ٹالسٹائی تک، قدیم اور گہری حکمتیں دریافت کریں گے، اور بیسویں صدی کے کچھ عظیم مفکرین کے خیالات سے بھی روشناس ہوں گے۔ ہر اقتباس کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں بشمول فلسفہ، نفسیات، فنون لطیفہ، ادب، سیاست، سائنس اور مذہب پر عمیق بصیرت فراہم کرے۔ آپ چاہے زندگی کے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں یا اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوئی تحریک تلاش کر رہے ہیں، یہ کتاب ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے، اور ہر لمحے آپ کو رہنمائی فراہم کرتی ہے۔






زندگی کی کلید: 365 اقتباسات میں




“اپنی زندگی کو ایک فن پارہ بنا ڈالو۔”

#1

“ضبطِ نفس دراصل آپ کی فوری خواہش اور سب سے بڑی چاہت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا نام ہے۔”

#2

“سائنس کا اعلیٰ ترین درجہ درحقیقت اس کی حیرت، رعب اور اسرار کو منظم کرنے، اسے باقاعدہ سمجھنے اور اس سے لطف اٹھانے کا نام ہے۔”

#3

“جو بننے کا آپ نے خواب دیکھا تھا، اس میں ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔”

#4

“ہم سب کٹھ پتلیاں ہیں، لوری۔ فرق بس یہ ہے کہ مجھے اپنی ڈوریاں نظر آتی ہیں۔”

#5

“جلدی بازی اور تاخیری حربے، دونوں زمانۂ حال کو قبول نہ کرنے کے بہانے ہیں۔”

#6

“افسانہ وہ جھوٹ ہے جس کے ذریعے ہم سچ بیان کرتے ہیں۔”

#7

“ایک بڑا راز سن لو بھائی، آخری فیصلے کا انتظار مت کرو، وہ تو ہر روز بپا ہوتا ہے۔”

#8

“سرما کی گہرائی میں مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے اندر تو ایک ناقابلِ شکست گرمی چھپی ہوئی ہے۔”

#9

“وہ نظریے جو ہمیشہ میرے راہوں میں روشن رہے اور مجھے مسرت دیتے رہے، وہ نیکی، خوبصورتی اور سچائی ہیں۔”

#10

“کبھی انسان پر ایسا وقت آتا ہے کہ اسے لڑنا پڑتا ہے اور کبھی ایسا کہ اسے لگتا ہے کہ منزل کھو چکی اور سفینہ ڈوب چکا ہے، اور اب کوئی احمق ہی سفر جاری رکھے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں ہمیشہ سے ہی وہ احمق ہوں۔”

#11

“پینتالیس برس کی تحقیق کے بعد میری بہترین نصیحت بس یہی ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے ذرا زیادہ نرمی برتیں۔”

#12

“جھوٹ دنیا میں آجائے، جیت بھی جائے، مگر میرے ذریعے نہیں۔”

#13

“ایک آدمی اگر جھوٹ بولنا چھوڑ دے تو آمریت کی بنیادیں ہلا سکتا ہے۔”

#14

“بس وہی چیز اپنی سمجھو جو اپنے ساتھ لے جا سکو۔ زبانوں، ملکوں اور انسانوں کی پہچان کرو۔ یادداشت کو اپنا زادِراہ بنا لو۔”

#15

“نیکی اور بدی کے درمیان لکیر ہر انسان کے دل سے گزرتی ہے، اور کون ہے جو اپنے دل کا کوئی حصہ مٹانے پر تیار ہو۔”

#16

“تشدد کو صرف جھوٹ چھپا سکتا ہے، اور جھوٹ کو صرف ہنگامہ قائم رکھ سکتا ہے۔”

#17

“اصولوں کے لئے لڑنا آسان ہے، ان پر جینا مشکل۔”

#18

“محبت کر کے کھو دینا، محبت نہ کرنے سے بہتر ہے۔”

#19

“کتب خانہ ذہن کا شفا خانہ ہے۔”

#20

“سچ کا متلاشی تو انسان پیروی کے قابل ہے، مگر جو سچ کو پالے، اس سے دور رہو۔”

#21

“جیسے ہو، ویسے ہی رہ کر نفرت سہنا، ایسی تعریف سے بہتر ہے جو بناوٹی شخصیت کی وجہ سے ہو۔”

#22

“ہم خود کو مفلس سمجھتے تھے کہ ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں، مگر جب ایک کے بعد ایک چیز چھینی گئی تو ہمیں خدا کی عطا اور اپنی پچھلی نعمتوں کا احساس ہوا۔”

#23

“کسی کو مچھلی دو گے تو اسے ایک ہی دن کھلاؤگے، مچھلی پکڑنا سکھا دو گے تو اسے عمر بھر کھلاؤ گے۔”

#24

“جو شخص معاشرے میں زندگی گزارنے سے قاصر ہو، یا جسے اپنی ذات کے لئے کسی کی ضرورت نہ ہو کیونکہ وہ خود کو اپنے لئے کافی سمجھتا ہے، وہ یا تو حیوان ہوگا یا پھر خدا۔”

#25

“وہ تبدیلی خود بن جاؤ جو تم دنیا میں دیکھنا چاہتے ہو۔”

#26

“بہت ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کسی جادو سے کم نہیں۔”

#27

“ہنر وہ نشانہ لگاتا ہے جو کوئی اور نہیں لگا سکتا، اور ذہانت اس ہدف پر وار کرتی ہے جو کسی دوسرے کو دکھائی ہی نہیں دیتا۔”

#28

“فرد کی زندگی مجموعی طور پر المیہ ہوتی ہے، مگر قریب سے دیکھا جائے تو اس میں مزاح کے رنگ بھی ہوتے ہیں۔”

#29

“اصل سوال یہ نہیں کہ مجھے جانے کون دے گا، سوال یہ ہے کہ مجھے روکے گا کون۔”

#30

“اگر انسان خودمختار پیدا ہوتے تو اس آزادی میں رہتے ہوئے ان میں نیکی اور بدی کا کوئی تصور ہی نہ ہوتا۔”

#31

“جلد سونا اور جلد اٹھنا انسان کو صحت مند، خوشحال اور دانا بناتا ہے۔”

#32

“آپ کی اصل دولت کا تخمینہ تب لگتا ہے جب آپ سب کچھ گنوا بیٹھیں۔”

#33

“میں اپنے عقائد پر مرنے مارنے کو تیار نہیں، کیونکہ ممکن ہے میں غلط ہوں۔”

#34

“سب کچھ کرو، جو تم کر سکتے ہو، (مگر) اس سے جو تمہارے پاس ہے، اور (وہاں) جہاں تم موجود ہو۔”

#35

“حقیقت یہ ہے کہ ہر کوئی تمہیں دکھ دے گا، تمھیں صرف انہیں شناخت کرنا ہے جن کے لئے تکالیف برداشت کرنا، کوئی معنی رکھتا ہے۔”

#36

“یہ اہم نہیں کہ تم کہاں سے آئے ہو، اصل بات یہ ہے کہ تم جا کہاں رہے ہو۔”

#37

“میں نے یہ سیکھا ہے کہ دکھوں پر بولنے والے بھی تکلیف دیتے ہیں، مگر خاموش رہنے والے زیادہ صدمہ پہنچاتے ہیں۔”

#38

“میری عملی حالت یہ تھی کہ خواہشوں کا جنگل، امنگوں کا ہنگامہ، اندیشوں کی آماجگاہ، پالی ہوئی نفرتوں کا محل سرا۔ میں بہت سوں کا جمِ غفیر تھا۔”

#39

“جو چیز تم بانٹ نہ سکے، وہ واقعی کبھی تمہاری نہیں ہو سکتی۔”

#40

“خوشی کی قیمت غلامی ہے، اور آزادی کی قیمت تنہائی۔”

#41

“خدا انسان کا عظیم ترین تصور ہے۔”

#42

“دوسروں کی وہ باتیں جو ہمیں کھٹکتی ہیں، ہمیں خود کو سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔”

#43

“جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، وہ اکثر وہیں ملتی ہے جہاں دیکھنے کو دل نہیں چاہتا۔”

#44

“دنیا پوچھے گی کہ تم کون ہو، اور اگر تم نہ بتا سکے تو دنیا خود بتا دے گی۔”

#45

“غلطیوں کے بغیر سچ سامنے نہیں آتا۔ شایدانسان یہ نہ جان پائے کہ یہ چیز کیا ہے، مگر کم از کم اتنا تو جان لیتا ہے کہ وہ کیا نہیں ہے۔”

#46

“میں نے یہ سیکھا کہ لوگ تمہاری باتیں اور عمل بھول جائیں گے، مگر یہ کبھی نہیں بھولیں گے کہ تم نے انہیں کیسا احساس دلائے۔”

#47

“دنیا کی واحد مسرت آغاز کرنے میں ہے۔”

#48

“اگر کوشش کرنی ہے تو پوری کرو، ورنہ شروع ہی مت کرو۔”

#49

“نقالی کرنا سب سے پُرخلوص خوشامد ہے۔”

#50

“ہمیں ثقافتی معرکوں میں ڈٹے رہنا ہوگا، خواہ تھکن ہی کیوں نہ چھا جائے، کیونکہ ہر میدان میں سچ داؤ پر لگا ہے اور تقدیریں میزان میں معلق ہیں۔”

#51

“اس دنیا میں کوئی بھی اتنا بے کار نہیں کہ کسی دوسرے کا بوجھ ہلکا کرتا پھرے۔”

#52

“آخرکار، سب کچھ تماشاگری ہی تو ہے۔”

#53

“معیاری چیزوں کو گزرتے وقت سے کوئی خوف نہیں ہوتا۔”

#54

“مقصد ہمیشہ کے لئے جینا نہیں، بلکہ کچھ ایسا تخلیق کرنا ہے جو (تاابد باقی) رہے۔”

#55

“زندگی کی بہترین چیزیں بےدام ہوتی ہیں، جبکہ دوسرے درجے کی بہترین چیزیں بہت قیمتی ہوتی ہیں۔”

#56

“سست رفتاری معنی نہیں رکھتی، جب تک کہ آپ رک نہیں جاتے۔”

#57

“میرا مذہب بہت سادہ ہے، اور وہ ہے مہربانی۔”

#58

“جنگ سے امن اسی طرح پیدا ہوتا ہے جیسے نفرت سے محبت۔”

#59

“مصنوعی ذہانت اور (حقیقی) ذہانت کا باہمی تعلق ویسا ہی ہے جیسا بناوٹی پھولوں کا حقیقی پھولوں سے۔”

#60

“بہادر تو وہ ہے جو صرف دشمنوں پر نہیں، اپنی خواہشوں پر بھی قابو پا لے۔”

#61

“کائنات میں تین ہی چیزیں ہیں، وہ جو ہمیں معلوم ہیں، وہ جو معلوم نہیں، اور وہ جن کے بارے میں ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم انہیں نہیں جانتے۔”

#62

“وقت اتنی جلدی کیسے بیت گیا؟”

#63

“ہمیں درست طریقے سے کمتری کا احساس دلانا تخلیقی ہنر (فن) کا کام ہے، انسان تو اکثر یہ کام غلط انداز میں ہی کرتے ہیں۔”

#64

“کسی خواب کو اس لئے مت چھوڑو کہ اسے پانے میں وقت لگے گا، وقت تو بہرحال گزر ہی جانا ہے۔”

#65

“جو کچھ ہم دیکھتے یا محسوس کرتے ہیں، کیا وہ خواب کے اندر ایک اور خواب تو نہیں؟”

#66

“ہنسے تو دنیا ساتھ ہنسے گی، آنسو بہائے تو اکیلے بہاؤ گے۔”

#67

“اگر سچے اعتراف آنسوؤں سے لکھے جائیں تو میرے آنسو دنیا کو ڈبو دیں، جبکہ میری روح کا شعلہ اسے راکھ بنا دے۔”

#68

“اس خیال سے طاقتور کچھ بھی نہیں جس (کو عملی جامہ پہنانے) کا وقت آ چکا ہو۔”

#69

“گھٹنوں کے بل جینے سے بہتر ہے قدموں پر کھڑے رہ کر مر جاؤ۔”

#70

“آزادی، خواہشات کو پورا کرنے سے نہیں، خواہشات کو ختم کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔”

#71

“مشکل جتنی غیر معمولی ہوگی، اس پر قابو پانے سے شان بھی اتنی ہی بڑھے گی۔”

#72

“جس قدر بھی اہم ہو، اس میں کبھی دیر نہیں ہوتی کہ آپ وہ بنیں جو بننا چاہتے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ ایسی زندگی گزار رہے ہیں جس پر آپ کو فخر ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو مجھے امید ہے کہ آپ میں دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت ہے۔”

#73

“آپ کو بس کرنا یہ ہے کہ ٹھیک ٹھیک ایک جملہ لکھنا ہے، ایسا کھرا جملہ جو آپ جانتے ہیں۔”

#74

“ممکن نہیں کہ جگہیں بدل کر اپنے ضمیر سے بچ نکلو۔”

#75

“میں شاید تمہارے الفاظ سے اتفاق نہ کروں، لیکن انہیں بولنے (آزادیٔ رائے) کے حق کا ہر ممکن دفاع کروں گا۔”

#76

“زندگی کے گلابی جام، الکحل کے نام!”

#77

“مجھے اس کی ہمت، سچائی اور آتشی خودداری نے دیوانہ کردیا۔ اور انہی خوبیوں پر میرا یقین قائم رہے گا، چاہے ساری دنیا شک کرے کہ وہ ویسی نہیں جیسی ہونی چاہیے۔ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور یہی ہر شے کی ابتدا ہے۔”

#78

“مجھے ایک ہیرو دکھاؤ، میں تمہیں ایک المیہ لکھ دوں گا۔”

#79

“علم طاقت ہے۔”

#80

“جدائی معمولی خواہشوں کو کمزور اور عظیم جذبات کو پروان چڑھاتی ہے، جیسے ہوا شمع کو بجھاتی اور شعلے بھڑکا دیتی ہے۔”

#81

“ہر کوئی خود کو دوست کہتا ہے، کوئی نادان ہی اس قول پر یقین کرے گا؛ نام بڑے اور کام چھوٹے۔”

#82

“انسان کے لاشعور کی گہرائیوں میں ایک منطقی اور بامعنی کائنات کی خواہش ہے، مگر اصل کائنات ہمیشہ منطق سے ایک قدم آگے ہوتی ہے۔”

#83

“کتاب کو ہمارے اندر جمے سمندر کے لئے ایک کلہاڑا کی طرح ہونا چاہئے۔”

#84

“ایک خاص مقام کے بعد واپسی ممکن نہیں رہتی، اور اسی مقام تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے۔”

#85

“ہر معاملے میں، جتنا بڑا، اتنا بہتر۔”

#86

“جس کے پاس جینے کا مقصد ہو، وہ ہر اعتراض برداشت کر لیتا ہے۔”

#87

“نئے عہدنامے میں ایک بھی لطیفہ نہیں، اور یہ بات کسی بھی کتاب کو مشکوک بنا سکتی ہے۔”

#88

“رفتہ رفتہ مجھ پر یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ ہر عظیم فلسفہ دراصل, دوسرے لفظوں میں اپنے تخلیق کرنے والے کے اعترافات اور ایک قسم کی لاشعوری اور بےخبر خودنوشت ہوتا ہے۔”

#89

“ہماری سوچ میں ایسی توانا مہک ہونی چاہئے جیسے گرمیوں کی رات میں گندم کے کھیت کی خوشبو۔”

#90

“جو چیز ہمیں مار نہ سکے، وہ ہمیں مضبوط تر بنا دیتی ہے۔”

#91

“جو کام محبت سے کیا جائے، وہ خیر اور شر کے تصورات سے ماورا ہوتا ہے۔”

#92

“ایک غلط مقولہ ہے 'جو خود کو نہ بچا سکے وہ دوسروں کو کیسے بچائے گا؟’ اگر تمہاری بندشوں کی کنجی میرے پاس ہے تو تمھارا اور میرا تالہ یکساں کیسے ہوسکتا ہے۔”

#93

“عفریتوں سے لڑتے وقت یہ خیال رکھو کہ خود عفریت نہ بن جاؤ، کیونکہ اندھی گھاٹیوں میں زیادہ دیکھنا اندھا کردیتا ہے۔”

#94

“حُسن دنیا کو بچا لے گا۔”

#95

“انسان صرف اپنے اعمال کا ہی نہیں، بلکہ دوسرے جو کرتے ہیں ان کا بھی ذمہ دار ہے۔”

#96

“اگر ہر چیز کو اس کا حق دیا جائے تو دو اور دو کا پانچ ہونا بھی کبھی کبھی بہت دلکش لگتا ہے۔”

#97

“اس دنیا میں سچ بولنے سے مشکل اور خوشامد کرنے سے آسان، کوئی کام نہیں۔”

#98

“دنیا کی ہر نعمت نچھاور کر دی جائے، ایسی معاشی خوشحالی ہو کہ نیند پوری کرنے، مٹھائیاں کھانے اور نسل بڑھانے کے سوا کوئی کام نہ رہے، تب بھی انسان محض ناشکری اور ضد میں کوئی نہ کوئی گھٹیا حرکت ضرور کرے گا۔”

#99

“ہر انسان کو رائے دینے کا حق حاصل ہے، حتیٰ کہ ماضی کے لوگوں کو بھی، اور اسی کو ہم روایت کہتے ہیں۔”

#100

“پریوں کی کہانیاں بچوں کو یہ نہیں بتاتیں کہ بلائیں وجود رکھتی ہیں، بلکہ یہ سکھاتی ہیں کہ بلاؤں کو ہرایا جا سکتا ہے۔”

#101

“سچا سپاہی اس لئے نہیں لڑتا کہ مدِمقابل سے نفرت ہے، بلکہ اس لئے کہ پیچھے والوں سے محبت ہے۔”

#102

“برسوں بعد جب کرنل اوریلیانو بوئندیا فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا تھا تو اسے وہ دوپہر یاد آئی جب اس کے باپ نے اسے پہلی بار برف دکھائی تھی۔”

#103

“سورج اپنے گرد گھومتے سیاروں کے باوجود انگور کا ایک گچھا یوں پکا دیتا ہے جیسے کائنات میں اس کے پاس دوسرا کوئی کام ہی نہ ہو۔”

#104

“دیر آید درست آید۔”

#105

“وقت اور موجیں کسی کا انتظار نہیں کرتیں۔”

#106

“جس آدمی کے پاس مزاج کے مطابق کام اور محبوب شریکِ حیات ہو، وہ زندگی سے اپنا حساب چکتا کر چکا ہوتا ہے۔”

#107

“آزادی صرف جان کی بازی لگا کر ہی حاصل کی جاتی ہے۔”

#108

“فلسفہ فطرتاً مبہم ہوتا ہے۔ نا تو یہ عوام کے لئے بنتا ہے، اور نہ ہی اسے عوامی ذوق کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔”

#109

“تاریخ ہمیں بس یہی سکھا پاتی ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے۔”

#110

“تمھاری سدا کی خواہشیں خوف کے اُس پار موجود ہے۔”

#111

“دیگر مخلوقات کے ساتھ ہمارا بدترین گناہ ان سے نفرت نہیں، بلکہ بے حسی ہے، یہی غیر انسانی رویہ کا نچوڑ ہے۔”

#112

“اگر فن نہ ہو تو حقائق کی سختی دنیا کو ناقابلِ برداشت بنا دے۔”

#113

“ہمارے جیون کا مقصد ہی کیا ہے، اگر ایک دوسرے کی زندگی کو کچھ آسان نہیں بنا سکتے۔”

#114

“سب جانور برابر ہوتے ہیں، لیکن کچھ جانور تو دوسروں سے بڑھ کر برابر ہوتے ہیں۔”

#115

“اس زندگی میں صرف ایک ہی خوشی ہے: محبت کرنا اور محبت پانا۔”

#116

“جو لوگ ماضی کو یاد نہیں رکھتے، وہ اسے دہرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔”

#117

“جینا تکلیف ہے، اور زندہ رہنا دراصل اس تکلیف (کو سہنے) کی کوئی وجہ تلاش کرنا ہے۔”

#118

“ہم ممکنات میں سے سب سے کامل جہان میں رہتے ہیں۔”

#119

“اصل بات جیت یا ہار نہیں، بلکہ آپ کا کھیلنے کا انداز ہے۔”

#120

“میں ایسی کسی انجمن کا رکن نہیں بننا چاہتا جو مجھے قبول کرنے کو تیار ہو۔”

#121

“بیس برس بعد تم اُن کاموں پر زیادہ افسوس کرو گے جو تم نے نہیں کئے، اس لئے رسیاں کاٹ پھینکو، محفوظ کناروں سے دور نکل جاؤ، سفر کی ہواؤں کو اپنے ساحل پر چلنے دو، کھوج لگاؤ، خواب دیکھو، اور نئی چیزیں دریافت کرو۔”

#122

“صحیح ذہن والے لوگ اپنی صلاحیتوں پر گھمنڈ نہیں کرتے۔”

#123

“وہ وقت جب آپ کے دوستوں کو آپ کی ضرورت ہوتی ہے جب وہ غلط ہوں۔”

#124

“عظیم لوگوں کی زندگیوں سے میں نے یہ سیکھا کہ ان کی پہلی فتح اپنی ذات پر ہوتی تھی؛ ضبطِ نفس ان سب کی پہلی ترجیح تھی۔”

#125

“جس چیز کی تم تلاش میں ہو، وہ اس شکل میں نہیں آئے گی جس کی تم توقع کر رہے ہو۔”

#126

“حسن میں عیب کا نہ ہونا بھی خود ایک عیب ہے۔”

#127

“ایک ہی شخص مجھے سمجھ سکا، اور وہ بھی مجھے سمجھ نہ سکا۔”

#128

“زندگی یا تو ایک جرات مندانہ مہم ہے، یا پھر کچھ بھی نہیں۔”

#129

“کامیابی اکثر اُن لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اسے ڈھونڈنے میں بہت مصروف ہوتے ہیں۔”

#130

“عظیم دماغ خیالات پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں، اوسط عقلیں واقعات پر بات چیت کرتی ہیں، اور پستہ ذہنیت افراد پر بحث کرتی ہے۔”

#131

“اپنے ہنر آزماؤ، اس لئے کہ جنگل بہت خاموش ہو جائے اگر چہچہانے کا کام صرف بہترین پرندے ہی کریں۔”

#132

“کوئی شخص ایک ہی دریا میں دوبارہ قدم نہیں رکھتا، کیونکہ نہ دریا وہ رہتا ہے اور نہ انسان۔”

#133

“مجھے نہیں معلوم آگے کیا آنے والا ہے، مگر جو بھی ہو، میں اس کا سامنا ہنستے ہوئے کروں گا۔”

#134

“نقالی میں کامیاب ہونے سے بہتر ہے کہ اصلیت میں ناکام ہوا جائے۔”

#135

“شاید میں تمہیں یہی کہہ سکتا ہوں کہ تم بہت زیادہ تلاش کر رہے ہو، اور اسی جدوجہد میں تم کچھ حاصل نہیں کرسکے۔”

#136

“کسی معاشرے (کو پرکھنے) کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد کا کتنا خیال رکھتا ہے۔”

#137

“صرف آزاد اور بے لگام صحافت ہی حکومت کے فریب کو بے نقاب کر سکتی ہے۔”

#138

“بے فکری سے: دیر تک سوتے رہو، مستی کرو، ہنگامہ کرو، شراب پیو، خالی سڑکوں پر تیز گاڑی بھگاؤ۔ دماغ میں بس دل لگی کرنے اور گرفتار نہ ہونے کا خیال ہو۔”

#139

“معاشرہ تب ترقی کرتا ہے جب بوڑھے لوگ وہ درخت لگاتے ہیں جن کے سائے میں ان کے بیٹھنے کا کوئی امکان نہ ہو۔”

#140

“مہربان رہو، کیونکہ ہر ملنے والا ایک سخت جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔”

#141

“نظریاتی فلسفہ (مابعدالطبیعیات) ایک تاریک سمندر ہے، نہ کنارہ نہ روشنی، اور اس میں فلسفے کے کئی ملبے بکھرے ہوئے ہیں۔”

#142

“میں نہیں جانتا کہ دنیا کو کیسا نظر آتا ہوں، مگر اپنے لئے میں ایک ایسے بچے جیسا ہوں جو ساحل پر کھیل رہا ہو۔”

#143

“اگر میں دوسروں سے آگے دیکھ سکا ہوں تو صرف عظیم لوگوں کے کندھوں پر کھڑے ہو کر۔”

#144

“ہر عمل کے مقابلے میں ہمیشہ ایک برابر اور مخالف ردعمل ہوتا ہے۔”

#145

“کردار یہی ہے کہ اُس وقت اچھے کام کرنا، جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔”

#146

“زندگی کوئی مسئلہ نہیں جسے حل کیا جائے، بلکہ ایک بھید ہے جسے جیا جائے۔”

#147

“ہیری، ہماری اصل پہچان ہماری صلاحیتیں نہیں، بلکہ ہمارے انتخاب ہوتے ہیں۔”

#148

“کیوں نہ آج رات سے زندگی کا ایک نیا اصول بنا لیں، کہ ہر وقت ضرورت سے کچھ زیادہ مہربان رہنے کی کوشش کریں۔”

#149

“جو مارے مارے پھرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ بھٹکے ہوئے بھی ہوں۔”

#150

“پھر اس کے اندر کوئی چیز بیدار ہوئی اور اس نے چاہا کہ جا کر بڑے بڑے پہاڑوں کو دیکھے اور دیودار کے درختوں اور آبشاروں کی آوازیں سنیں اور غاروں کو دیکھیں اور چھڑی کے بجائے تلوار پہنیں۔”

#151

“رجائیت پسند کہتا ہے کہ ہم ممکنات میں سے سب سے کامل جہان میں رہتے ہیں، اور یاس پسند کو ڈر ہے کہ کہیں یہ سچ نہ ہو۔”

#152

“خواب ایسے دیکھو کہ ہمیشہ جینا ہے، اور جیو ایسے کہ آج ہی مر جانا ہے۔”

#153

“اگر ہمیں خود پر چھوڑ دیا جائے تو ہم پوری دنیا کو اپنی ہی صورت میں ڈھال دیں گے۔”

#154

“انسان آزاد پیدا ہوتا ہے، مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوتا ہے۔”

#155

“جب میں اپنے لئے انتخاب کرتا ہوں تو دراصل سب انسانوں کے لئے کرتا ہوں۔”

#156

“شاید اس سے زیادہ خوبصورت زمانے بھی ہوں، مگر یہ وقت ہمارا ہے۔”

#157

“اکثریت کی سب سے بڑی خوشی ہی قانون سازی کی بنیاد ہوتی ہے۔”

#158

“ہمیں دو میں سے ایک درد ضرور سہنا پڑتا ہے، ضبطِ نفس کا درد یا پچھتاوے کا درد۔”

#159

“ذرا تصور کرو ایک ایسی دنیا کا جہاں ہر انسان کو پورے انسانی ذخیرۂ علم تک آزاد رسائی حاصل ہو۔”

#160

“انسان دنیا میں وہی کچھ دیکھتا ہے جو وہ اپنے دل میں لئے پھرتا ہے۔”

#161

“جب ہم لوگوں کو بس، جیسے وہ ہیں ویسا ہی مان لیتے ہیں تو انہیں بدتر بنا دیتے ہیں، اور جب انہیں ویسا سمجھتے ہیں جیسے انہیں ہونا چاہئے تو ہم انہیں بہتر بننے میں مدد دیتے ہیں۔”

#162

“یہ مت پوچھو کہ تمہارا ملک تمہارے لئے کیا کر سکتا ہے، یہ پوچھو کہ تم اپنے ملک کے لئے کیا کر سکتے ہو۔”

#163

“اگر ہم اپنے اختلافات اب ختم نہیں کر سکتے، کم از کم دنیا کو تنوع کے واسطے محفوظ تو بنا سکتے ہیں۔”

#164

“ہر عظیم ادب کی کہانی بس دو ہی طرح کی ہوتی ہے، یا آدمی سفر پر نکلتا ہے یا کوئی اجنبی شہر میں آ جاتا ہے۔”

#165

“جب وہ پڑھ رہا تھا، میں عشق میں مبتلا ہوا۔ بالکل اسی طرح جیسے نیند آتی ہے، آہستہ آہستہ، اور پھر یک دم!”

#166

“شاید ہمارے پسندیدہ اقتباسات، کہانیوں یا کہنے والوں سے زیادہ ہمارے بارے میں بتاتے ہیں۔”

#167

“ایک بلی کو بھی بادشاہ کو دیکھنے کا حق ہے۔”

#168

“آدمی گھوڑے کو پانی تک تو لے جا سکتا ہے، مگر اسے پینے پر مجبور نہیں کر سکتا۔”

#169

“سورج چمک رہا ہو تو گھاس کاٹ لو۔”

#170

“داؤ نہ لگے، کامیابی نہ ملے۔”

#171

“انسان کا علم اس کے تجربے سے آگے نہیں نکل سکتا۔”

#172

“آزادی کا مطلب اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنا ہے۔”

#173

“کتاب کی خوبی یہ ہے کہ بند کرنے کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے تمہاری ہو جاتی ہے۔”

#174

“میں (صرف) تمہارے لئے خیر نہیں چاہتا، بلکہ میں تمھارے خیر خواہ کے لئے خیر چاہتا ہوں، کیونکہ تم خود نہیں جانتے کہ تم کیا چاہتے ہو۔ میں تمھاری اس جانب نہیں ہوں، جو شکست کی طرف جا رہی ہے، بلکہ میں اس طرف ہوں جو روشنی کی طرف لڑ رہی ہے۔ یہی اصل محبت ہے۔”

#175

“اگر تم خدا پر ایمان نہیں رکھتے تو تم کسی چیز پر بھی ایمان نہیں رکھتے، مذہبی لوگ اپنا خدا رکھیں گے اور تم اپنا خالی پن۔”

#176

“اگر تم روز اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہو تو مستقبل کی فکر نہیں رہتی۔”

#177

“نِہل ازم کہتا ہے کہ کسی چیز کا کوئی مطلب نہیں، مگر اس کے برعکس سچ یہ بھی ہے کہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی مطلب ہوتا ہے۔”

#178

“امن و امان اور افراتفری کی درمیانی لکیر پر ہی سب سے زیادہ معنی ملتے ہیں۔”

#179

“زندگی کا مطلب کیا ہے؟’ پوچھنا فضول ہے، (کیونکہ) اس کا جواب تم خود ہو۔”

#180

“جس غار میں داخل ہونے سے تم ڈرتے ہو، وہی تمہارے خزانے کو سنبھالے ہوئے ہے۔”

#181

“اپنی کہانی کے ہیرو تم خود ہو۔”

#182

“جھوٹ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، بار بار دہرایا جائے تو لوگ اسے سچ مان لیتے ہیں۔”

#183

“ہر ایک سے اس کی صلاحیت کے مطابق (لو)، اور ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق (دو)۔”

#184

“فلسفی اب تک دنیا کی تشریح کرتے آئے ہیں، اصل کام تو اسے بدلنا ہے۔”

#185

“اپنی محبوب چیز تلاش کرو، اور اس کے ہاتھوں تباہ ہو جاؤ۔”

#186

“اسے کہا گیا تھا کہ پیچھے مت دیکھنا جہاں وہ تمام لوگ اور ان کے گھر تھے، مگر اس نے دیکھا، اور مجھے اس کی یہ ادا بھا گئی۔ کیونکہ یہ عین انسانی فطرت تھی۔ پھر وہ نمک کا ستون بن گئی۔ بس! ایسے ہی ہوتا ہے۔”

#187

“سب کچھ خوبصورت تھا اور کسی کو تکلیف نہ تھی۔”

#188

“دل لگی سوائے اس دلیل کے کیا ہے کہ زندگی کو چلتے، چلتے، اور چلتے ہی رہنا چاہئے؟”

#189

“جو زندگی سے کچھ نہیں چھپاتا، وہ موت کے لئے ہردم تیار ہوتا ہے، جیسے آدمی بھرپور دن کے بعد نیند کے لئے (تیار ہوتا ہے)۔”

#190

“دنیا انہی کی ہوتی ہے جو چھوڑ دینا جانتے ہیں۔”

#191

“دنیا میں تین طرح کے رہنما ہوتے ہیں، ایک محبوب، ایک ناپسندیدہ، اور ایک وہ جن کے وجود کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ کام مکمل ہو جائے، مطلب پورا ہوجائے تو ایسے لوگ کہتے ہیں، یہ ہم نے خود کیا۔”

#192

“تمیزدار عورتیں شاذ ہی تاریخ رقم کرتی ہیں۔”

#193

“زندگی کا مقصد خوش رہنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ تمہاری زندگی کوئی تبدیلی پیدا کرے اور تم نے اسے اچھے طریقے سے جیا ہو۔”

#194

“ہر کوئی دنیا بدلنے کا سوچتا ہے، مگر خود کو بدلنے کا نہیں۔”

#195

“خوش و خرم خاندان سب ایک جیسے ہوتے ہیں، مگر ہر ناخوش خاندان ایک الگ ہی وجہ سے پریشان ہوتا ہے۔”

#196

“وہ اس سے نظریں چرا کر ایسے نیچے اتر گیا، جیسے وہ سورج ہو۔ مگر پھر بھی اسے دیکھ ہی لیا، جیسے سورج کو دیکھتے ہیں، بغیر دیکھے۔”

#197

“محبت ہی زندگی ہے۔ جو کچھ میں سمجھتا ہوں، محبت ہی کے ذریعے سمجھتا ہوں۔ سب کچھ اسی لئے ہے کہ میں محبت کرتا ہوں۔ سب کچھ محبت ہی سے جڑا ہے۔ محبت خدا ہے، اور مرنے کا مطلب ہے کہ محبت کا ایک ذرہ اپنے ابدی سرچشمے میں لوٹ جائے۔”

#198

“نطشے احمق اور غیر معمولی تھا۔”

#199

“احترام اس خالی جگہ کو پُر کرنے کے لئے ایجاد کیا گیا جہاں محبت ہونی چاہئے تھی۔”

#200

“میری کہانی کا ہیرو جسے میں اپنی روح کی پوری طاقت سے چاہتا ہوں، جسے میں نے اس کی پوری خوبصورتی کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو خوب تھا، خوب ہے اور ہمیشہ خوبصورت رہے گا، وہ ہے سچ۔”

#201

“صبر اور وقت، دو سب سے طاقتور جنگجو ہیں۔”

#202

“جب آپ کسی سے محبت کرتے ہیں تو اسے ایسا ہی چاہتے ہیں جیسا وہ ہے، نہ کہ ویسا جیسا آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔”

#203

“قبرستان زمین کی سب سے امیر جگہ ہے، کیونکہ وہاں وہ سارے خواب اور امیدیں دفن ہیں جو کبھی پوری نہ ہو سکیں۔”

#204

“آخر میں صرف انہی موقعوں کا افسوس رہ جاتا ہے جو ہم نے جانے دیے۔”

#205

“آنکھ کے بدلے آنکھ، ایسے تو پوری دنیا اندھی ہو جائے گی۔”

#206

“یہ سوچ کر مت روؤ کہ سب ختم ہو گیا، مسکراؤ کہ ایسا ہوا۔”

#207

“میری زبان کی حدود ۔۔۔ مطلب ۔۔۔ میری دنیا کی حدود۔”

#208

“جہاں کوئی بات نہیں کی جا سکتی، وہاں خاموشی ہی بہتر ہے۔”

#209

“اپنے مقروض کے لئے کوئی بھی ہیرو نہیں ہوتا۔”

#210

“تمام مذاہب وہ مختلف راستے ہیں جو ایک ہی منزل پر جا کر ملتے ہیں۔”

#211

“ہماری زندگیاں چاہے کتنی بھی بھٹک جائیں، یادیں ایک ہی جگہ ٹھہری رہتی ہیں۔”

#212

“جب سب کچھ ختم ہوتا نظر آتا ہے، جب ہر بے کار در کھٹکھٹایا جا چکا ہوتا ہے، تب انجانے میں وہ دروازہ دھکیلا جاتا ہے جسے صدیوں میں بھی تلاش نہ کیا جا سکتا تھا—اور وہ کھل جاتا ہے۔”

#213

“گزری یادیں لازمی نہیں ویسی ہی ہوں جیسی وہ حقیقت میں تھیں۔”

#214

“حقیقی بہشتیں فقط وہی ہیں جو ہم کھو چکے ہوتے ہیں۔”

#215

“اجنبی جگہوں کی سیر کرنا اصل سفرِ دریافت اور سرچشمۂ آبِ حیات نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اچھوتی آنکھیں رکھی جائیں؛ دوسروں کی آنکھوں سے کائنات کا مشاہدہ کیا جائے، ان سینکڑوں کائناتوں کا مشاہدہ جو ان سینکڑوں آنکھوں میں سمائی ہوئی ہیں، جو یہ سینکڑوں آنکھیں دیکھتی ہیں۔”

#216

“وقت انسانوں کو تو بدل دیتا ہے، مگر ہمارے دل میں ان کی جو تصویر ہوتی ہے اسے نہیں بدل پاتا۔”

#217

“سمندر زمین کی طرح آسمان سے جدا نہیں، وہ سورج کے ساتھ چمکتا ہے اور شام کو اسی کے ساتھ ڈوبتا محسوس ہوتا ہے، اور جب سورج غائب ہو جاتا ہے، تو سمندر اس کی چاہت میں سرکرداں رہتا ہے، سیاہ اندھیری زمین کے مقابلے میں اس کی منور یادوں کا کچھ نا کچھ سمیٹتا رہتا ہے۔”

#218

“ہم کسی دکھ سے اسی وقت شفا پاتے ہیں جب اسے پوری طرح جھیل لیتے ہیں۔”

#219

“ہم چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں بدل پاتے، بلکہ آہستہ آہستہ ہماری مرضی خود بدل جاتی ہے۔”

#220

“بہترین بدلہ یہ ہے کہ اپنے دشمن جیسے نہ بنو۔”

#221

“عمل میں مزاحمت، کارروائی کو جلا بخشتی ہے؛ جو رکاوٹ راستہ روکتی ہے، وہی راستہ بن جاتی ہے۔”

#222

“بہار میں دن کے اختتام پر انسان کو مٹی کی مانند مہکنا چاہئے۔”

#223

“خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے۔”

#224

“مستقبل میں بھی کہانی کا آغاز 'ایک دفعہ کا ذکر تھا' سے ہی ہوگا۔”

#225

“اگر تم سچ بولتے ہو تو کچھ یاد رکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔”

#226

“دوستی کا مقدس جذبہ نہایت میٹھا اور پائیدار اور وفادار ہوتا ہے، اور ایسی فطرت رکھتا ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک قائم رہے۔ بشرطیکہ قرض نہ مانگا جائے۔”

#227

“ہم وہی بن جاتے ہیں جو ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہم اپنے اوزار تراشتے ہیں، پھر وہ اوزار ہمیں تراشتے ہیں۔”

#228

“تم جس طرح ایک کام کرتے ہو، اسی طرح سب کام کرتے ہو۔”

#229

“وہ وقت جو خوشی سے ضائع کیا جائے، ضائع نہیں ہوتا۔”

#230

“محتاط رہنا اور برا مان جانا، یہ آج کل ثقافت کی دو ہمزاد علتیں ہیں۔”

#231

“انسان کو اس کی چمڑی کے رنگ سے نہیں، اس کے کردار سے پرکھو۔”

#232

“داناؤں کے قدموں کے نشان پر مت چلو، بلکہ وہی تلاش کرو جو وہ تلاش کرتے تھے۔”

#233

“جب کوئی تمہیں بتا دے کہ وہ کون ہے تو پہلی ہی بار اس پر یقین کر لو۔”

#234

“محبت کے حساب میں ایک جمع ایک گویا سب کچھ ہوتا ہے، اور دو منفی ایک سے کچھ نہیں بچتا۔”

#235

“کتے ہمیں جنت سے جوڑتے ہیں۔ انہیں حسد، برائی اور بددلی کا کچھ نہیں پتا۔ ایک سہانی سہ پہر کسی ڈھلان پر کتے کے ساتھ بیٹھنا باغِ عدن میں لوٹ جانے کے مترادف ہے، جہاں فراغت میں اکتاہٹ نہیں تھی، بس سکون تھا۔”

#236

“اگر راستے کو وسعتِ نظر سے سمجھ لو تو وہ ہر چیز میں دکھائی دینے لگتا ہے۔”

#237

“ناپسندیدگی، محبت سے محرومی اور نظر انداز کئے جانے کی مفلسی سب سے بڑی مفلسی ہے۔”

#238

“ہر مشکل، ہر ناکامی اور ہر دلی غم میں کسی برابر یا بڑے فائدے کا بیج چھپا ہوتا ہے۔”

#239

“اگر فیصلہ نہیں کر پا رہے تو جواب ‘نہ’ میں ہے۔”

#240

“خدا سب کچھ خود نہیں کرتا، کہ ہم سے ہماری آزاد مرضی اور ہم سے منسوب وقار، نا چھین لے۔”

#241

“کسی درست بات کا متضاد جھوٹی بات ہوتی ہے، مگر کسی گہرے سچ کا متضاد ایک دوسرا گہرا سچ بھی ہو سکتا ہے۔”

#242

“ہمارے پاس معلومات بہت ہیں، مگر سمجھ بہت کم۔”

#243

“پروپیگنڈا اسی لئے کارگر ہوتا ہے کہ عوام حقیقی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتے۔”

#244

“تمہاری مٹھی گھمانے کی آزادی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے۔”

#245

“مجھے نہیں معلوم کہ تیسری عالمی جنگ کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی، مگر چوتھی عالمی جنگ لاٹھیوں اور پتھروں سے لڑی جائے گی۔”

#246

“رکاوٹوں کی عدم موجودگی، فن کی سب سے بڑی دشمن ہے۔”

#247

“میں اتنا ہوشیار ہوں کہ بعض اوقات اپنی ہی بات کا ایک لفظ بھی میرے پلے نہیں پڑتا۔”

#248

“زندگی فن کی پیروی کرتی ہے۔”

#249

“اچھوں کا انجام خوشگوار اور بروں کا انجام ناخوشگوار ہو، یہی افسانہ ہے۔”

#250

“صراحت کرنا دراصل حد مقرر کرنا ہے۔”

#251

“ہم سب نالی میں کھڑے ہیں، مگر ہم میں سے کچھ ستاروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔”

#252

“کل پر وہی کام ٹالو جسے ادھورا چھوڑ کر مرنے پر بھی آمادہ ہو۔”

#253

“اگرچہ میں کسی حیوان سے بہتر نہیں، کیا مجھے بھی جینے کا حق نہیں؟”

#254

“زمانۂ حال میں تم جو کچھ کرتے ہو، وہی ماضی کا ازالہ کرتا ہے اور مستقبل کو بدلتا ہے۔”

#255

“دنیا تمہاری مثال و کردار سے بدلتی ہے، تمہاری رائے سے نہیں۔”

#256

“جب تم کسی چیز کو سچے دل سے چاہتے ہو تو پوری کائنات اسے پانے میں تمہاری مدد کے تانےبانے بُنتی ہے۔”

#257

“کوئی چیز ہمیں اسی وقت چھوڑتی ہے جب وہ ہمیں اپنا ضروری سبق سکھا چکی ہوتی ہے۔”

#258

“اپنے دشمنوں کو ہمیشہ معاف کر دو، انہیں یہی بات سب سے زیادہ چُبھتی ہے۔”

#259

“تم گھنٹے بھر کی سرگرمی سے کسی انسان کو جتنا جان لو گے، اتنا سال بھر کی گفتگو میں بھی نہیں جان پاؤ گے۔”

#260

“انسان ہی تمام چیزوں کا پیمانہ ہے۔”

#261

“وہ جو موسیقی نہیں سن سکتے تھے، ناچتے ہوئے لوگ انہیں پاگل لگے۔”

#262

“افسردہ نہیں، مختلف بنو۔”

#263

“ہر چیز میں خوبصورتی ہوتی ہے، مگر اسے ہر کوئی نہیں دیکھ پاتا۔”

#264

“اگر تیزی سے جانا ہو تو اکیلے جاؤ، اور اگر دور تک جانا ہو تو اکٹھے جاؤ۔”

#265

“درخت لگانے کا بہترین وقت بیس سال پہلے تھا، دوسرا بہترین وقت آج ہے۔”

#266

“مشکل میں کِھلنے والا پھول نایاب ترین اور سب سے خوبصورت ہوتا ہے۔”

#267

“جو لوگ تم سے غیبت کرتے ہیں، وہ تمہاری بھی غیبت کریں گے۔”

#268

“سچ زندگی کے لئے مفید ہے۔”

#269

“ساری دنیا عاشق سے محبت کرتی ہے۔”

#270

“دنیا کے بارے میں لوگوں کی رائے دراصل ان کے کردار کا اعتراف ہوتی ہے۔”

#271

“زمین پھولوں میں ہنستی ہے۔”

#272

“موازنہ خوشی کا چور ہے۔”

#273

“میں سوچ رہا ہوں، اس لئے میرا وجود ہے۔”

#274

“اگر تم سچ کے حقیقی متلاشی بننا چاہتے ہو تو زندگی میں کم از کم ایک بار ہر چیز پر، جہاں تک ممکن ہو، شک کرو۔”

#275

“سائنس حقیقت کی شاعری ہے۔”

#276

“جو لوگ اتنے دیوانے ہوتے ہیں کہ سمجھتے ہیں وہ دنیا بدل سکتے ہیں، وہی اسے بدلتے ہیں۔”

#277

“تھوڑا، بہت ہوتا ہے۔”

#278

“گھر وہ جگہ ہے جہاں تمہیں جانا پڑے تو وہ تمہیں لینے کے لئے تیار ہوں۔”

#279

“میں نے زندگی کے موضوع پر جو کچھ سیکھا ہے، اس کا نچوڑ تین لفظوں میں بیان کرسکتا ہوں: "یہ چلتی رہتی ہے"۔”

#280

“کہیں آگے ۔۔۔ بہت آگے جا کر میں ۔۔۔ میں کہوں گا کہ جنگل میں دو راستے جدا ہوئے، اور میں نے کم چلنے والا راستہ چنا، اور اسی نے سب کچھ بدل دیا۔”

#281

“ہمیشہ ضرورت سے کم بولو۔”

#282

“تم پر یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے زمانے اور ثقافت میں حصہ ڈالو۔”

#283

“جلد یا بدیر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کوئی مقررہ مقام نہیں، کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں ہر حال میں پہنچنا ہے۔ زندگی کی اصل خوشی بس سفر ہے۔”

#284

“حسبِ ضرورت جس بات کی وضاحت، حماقت سے ہو سکتی ہو، اسے بد نیتی پر مت ڈالو۔”

#285

“گناہ سے نفرت کرو، گناہ گار سے محبت رکھو۔”

#286

“انکساری تمام خوبیوں کی بنیاد ہے، اس کے بغیر باقی خوبیاں محض دکھاوا ہیں۔”

#287

“جو چیز بانٹنے سے کم نہ ہوتی ہو، اسے اگر صرف سنبھال کر رکھا جائے اور بانٹا نہ جائے تو وہ درست ہاتھوں میں نہیں۔”

#288

“ہم محض جواز کے سہارے سچ ڈھونڈھنے میں بہت کمزور ہیں۔”

#289

“ہم لمحۂ موجود سے جڑنے اور اس میں اپنی تشفی کا بندوبست کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے، کیونکہ ہم مستقبل کی خوشی کی مسلسل امید لگائے رکھتے ہیں، اور مستقبل کبھی نہیں آتا۔”

#290

“ہر انسان کا کام دراصل اس کی اپنی تصویر ہوتا ہے۔”

#291

“سکھاتے ہوئے بھی انسان سیکھتے ہیں۔”

#292

“ہم حقیقت سے زیادہ اپنے خیالوں میں تکلیف اٹھاتے ہیں۔”

#293

“کہیں نہ کہیں کوئی حیران کن چیز دریافت ہونے کی منتظر ہے۔”

#294

“ایک دن پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے تمہیں جدوجہد والے سال سب سے خوبصورت لگیں گے۔”

#295

“جو جذبات ظاہر نہیں کئے جاتے وہ مرتے نہیں، وہ زندہ دفن ہوتے ہیں اور بعد میں زیادہ بدصورت انداز میں سامنے آتے ہیں۔”

#296

“مسئلہ یہ نہیں کہ ہماری خواہشیں پوری ہوتی ہیں یا نہیں، یہ ہے کہ ہم یہ جانیں کیسے کہ آخر ہماری چاہت کیا ہے۔”

#297

“عزت کے ساتھ جینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم وہی بن جائیں جو بننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔”

#298

“میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔”

#299

“بغیر چھان بین کی زندگی جینے کے لائق نہیں۔”

#300

“زندگی کو الٹے رخ سمجھنا پڑے گا، مگر سیدھے رخ جینا پڑے گا۔”

#301

“اور اس لمحے مجھے یقین ہوا کہ ہم لامحدود تھے۔”

#302

“کتابیں چلتی پھرتی جادوگری ہوتی ہیں۔”

#303

“سب سے اہم باتیں کہنا سب سے مشکل ہوتا ہے، کیونکہ الفاظ ان کی عظمت کم کر دیتے ہیں۔”

#304

“چیزوں کو جتنا ہو سکے تاریخ کے بہاؤ میں واپس رکھ دو۔”

#305

“بات یہ نہیں کہ تم کتنا زور سے مارتے ہو، اصل بات یہ ہے کہ تم کتنا زور سہہ کر بھی آگے بڑھ سکتے ہو۔”

#306

“گھومتی دنیا کے اس ساکن نقطے پر؛ نہ مادیت، نہ ہی غیر مادیت؛ نہ کہیں سے، نہ کسی طرف؛ اسی ساکن نقطے پر؛ رقص کا وجود ہے۔”

#307

“کیا میں کائنات کو بےچین کرنے کی جرات کروں؟”

#308

“تمام خوبیوں میں سب سے مشکل خوبی انکساری ہے، کیونکہ خود کو اچھا سمجھنے کی خواہش بڑی ہی مشکل سے مرتی ہے۔”

#309

“دنیا کا خاتمہ کسی دھماکے سے نہیں بلکہ ایک مدھم سسکی کے ساتھ ہوگا۔”

#310

“ہم تلاش سے باز نہیں آئیں گے، اور ہماری ساری تلاش کا انجام یہ ہوگا کہ ہم وہیں پہنچیں گے جہاں سے چلے تھے، اور اس جگہ کو پہلی بار پہچانیں گے۔”

#311

“جو ہو سکتا تھا اور جو ہو چکا، دونوں ہمیشہ ایک ہی رخ اشارہ کرتے ہیں، زمانۂ حآل کی طرف۔ قدموں کی چاپ یاد میں گونجتی ہے، اُسی راہداری کی طرف جسے ہم نے نہیں چنا، اُسی دروازے کی طرف جو ہم نے کبھی نہیں کھولا، گلابوں کے باغ میں۔”

#312

“ریاست جتنی زیادہ بگڑی ہو، اتنے ہی زیادہ قوانین ہوں گے۔”

#313

“نرم دل لوگ بابرکت ہیں، کیونکہ زمین انہی کو ملے گی۔”

#314

“دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو تم اپنے لئے چاہتے ہو۔”

#315

“جس نے گناہ نہ کیا ہو، وہی پہلا پتھر مارے۔”

#316

“اپنے دشمنوں سے محبت کرو۔”

#317

“خدا کی بادشاہی تمہارے نفس میں ہے۔”

#318

“سچ تمہیں آزاد کر دے گا۔”

#319

“وصل ہجر کی بنیاد ہے۔”

#320

“سکون اندر سے آتا ہے، اسے باہر مت تلاش کرو۔”

#321

“لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔”

#322

“اخلاقی کائنات کا قوس طویل ہے، مگر اس کا جھکاؤ انصاف کی طرف ہے۔”

#323

“لاعلمی ایک طرح کی خوشی ہے۔”

#324

“فراغت فلسفے کی ماں ہے۔”

#325

“فطری حالت میں زندگی تنہا، غریب، سخت، درندہ صفت اور مختصر ہوتی ہے۔”

#326

“ہم ان سچائیوں کو مسلمّہ مانتے ہیں کہ سب انسان برابر پیدا ہوئے ہیں، اور انہیں اپنے خالق کی طرف سے ایسے حقوق ملے ہیں جو چھینے نہیں جا سکتے، جن میں زندگی، آزادی اور خوشی کی جستجو شامل ہے۔”

#327

“میرا وطن پوری دنیا ہے، اور میرا مذہب نیکی کرنا ہے۔”

#328

“دنیا کی اصل جنگ توجیحات کی جنگ ہے۔”

#329

“جو معاشرہ اپنے مفکرین کو اپنے جنگجوؤں سے جدا کر دے، وہاں دانشوری بزدل کرتے ہیں اور لڑائی احمق۔”

#330

“روزانہ ایک قول، ساری دشواریاں دور رکھتا ہے۔”

#331

“برائی کی جیت کے لئے یہی کافی ہے کہ اچھے لوگ کچھ نہ کریں۔”

#332

“ہمدردی یہ خیال ہے کہ شاید جہنم کو بھی تم جیسے لوگوں کی ضرورت ہو۔”

#333

“میرے پیچھے مت چلو، ممکن ہے میں رہنمائی نہ کر سکوں۔ میرے آگے مت چلو، ممکن ہے میں پیروی نہ کر سکوں۔ بس میرے ساتھ چلو اور میرے دوست بنو۔”

#334

“پاگل پن یہ ہے کہ ایک ہی کام بار بار کیا جائے اور پھر مختلف نتیجے کی امید بھی رکھی جائے۔”

#335

“کچھ لوگ جہاں بھی جاتے ہیں خوشی پھیلا دیتے ہیں، اور کچھ جب رخصت ہوتے ہیں تب خوشی آتی ہے۔”

#336

“کسی نے کہا تھا کہ جہنم کی تعریف یہ ہے کہ زمین پر تمہارے آخری دن میں، وہ شخصیت جو تم بن گئے ہو، اس شخصیت سے ملے جو تم بن سکتے تھے۔”

#337

“جینے کے دو ہی طریقے ہیں، ایک یہ کہ کچھ بھی معجزہ نہ لگے، دوسرا یہ کہ ہر چیز معجزہ لگے۔”

#338

“جب ظلم قانون بن جائے تو بغاوت فرض بن جاتی ہے۔”

#339

“ایک دانشمندی کی بات لکھ دو، تمہارا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔”

#340

“عالمگیر فریب کے زمانے میں سچ بولنا ایک انقلابی عمل ہوتا ہے۔”

#341

“موسیقی وہ بات کہتی ہے جو الفاظ میں نہیں سما سکتی۔”

#342

“انسان سے سب کچھ چھینا جا سکتا ہے سوائے ایک چیز کے—اس کا ہر حالت میں اپنے رویے کا انتخاب کرنے کی آزادی۔”

#343

“انسان وہی ہے جس نے آشوٹز میں گیس چیمبر بنائے، اور وہی ہے جو ان میں سینہ تان کر، ہونٹوں پر دعا لئے داخل ہوا۔”

#344

“قسمت بہادروں کا ساتھ دیتی ہے۔”

#345

“محبت سب پر غالب ہے۔”

#346

“سب سے اعلیٰ مقصد عوامی بھلائی ہے۔”

#347

“خوشی زندگی کی سب سے سادہ اور عام حقیقت ہے، نہ کہ ناولوں، ادب اور شاعری کے بلندوبالا الفاظ۔”

#348

“ممکنہ کامل ترین عالم میں سب کچھ خیر ہی کے لئے ہوتا ہے۔”

#349

“ہم سب دوسروں کی مدد کے لئے زمین پر ہیں، باقی لوگ کس لئے ہیں یہ میں نہیں جانتا۔”

#350

“دوسروں سے بہتر ہونا کوئی بڑائی نہیں، اصل بڑائی اپنے نفسِ ماضی سے بہتر ہونا ہے۔”

#351

“قنوطی ہوا سے شکوہ کرتا ہے، رجائی اس کے بدلنے کی امید رکھتا ہے، حقیقت پسند بادبان درست کر لیتا ہے۔”

#352

“شاعری کیا ہے؟ ریت کے ذرے میں ایک دنیا دیکھنا، جنگلی پھول میں جنت۔ اپنی مٹھی میں لامحدودیت اور ایک گھڑی میں ابدیت سمو لینا۔”

#353

“فلسفہ انسانی مصروفیات میں بیک وقت سب سے ارفع بھی ہے اور سب سے معمولی بھی۔”

#354

“مطلق سچ کوئی نہیں، بس اتنا سچ ہوتا ہے کہ آگے بڑھا جا سکے۔”

#355

“ایک کام جس میں فلسفی پر بھروسا کیا جا سکتا ہے، وہ ہے دوسرے فلسفیوں کی مخالفت۔”

#356

“جو دیکھو اس کا آدھا مان لو، اور جو سنو اس پر کبھی یقین نہ کرو۔”

#357

“جو بھی ہو، بس اچھے بنو۔”

#358

“جب سب چیزیں برابر ہوں تو عموماً سادہ ترین وضاحت ہی درست ہوتی ہے۔”

#359

“جو نیا ہے وہ سچ نہیں، اور جو سچ ہے وہ نیا نہیں۔”

#360

“ساری دنیا ایک اسٹیج ہے، اور سب مرد و عورت محض اداکار۔ ہر ایک کی آمد ہے اور رخصت بھی، اور ایک انسان زندگی میں کئی کردار نبھاتا ہے۔”

#361

“محبت سب سے رکھو، بھروسا چند پر کرو، اور ظلم کسی پر بھی نہ کرو۔”

#362

“سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے آپ سے سچے رہو۔”

#363

“مستقبل کی سلطنتیں ذہنوں کی سلطنتیں ہوں گی۔”

#364

“کسی نے آج تک یہ نہیں جانچا، شاعروں نے بھی نہیں، کہ ایک دل اپنے اندر کتنا سمو سکتا ہے۔”

#365


زندگی کی کلید: 365 اقتباسات میں
The Key to Life: In 365 Quotes
Urdu Translation
Van Trinh
زندگی کی کنجی: 365 اقوال میں - دورِجدید میں رہنمائی کی بہترین ہینڈگائیڈ ہے، اور جادوئی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس میں آپ سقراط سے لے کر ٹالسٹائی تک، قدیم اور گہری حکمتیں دریافت کریں گے، اور بیسویں صدی کے کچھ عظیم مفکرین کے خیالات سے بھی روشناس ہوں گے۔ ہر اقتباس کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں بشمول فلسفہ، نفسیات، فنون لطیفہ، ادب، سیاست، سائنس اور مذہب پر عمیق بصیرت فراہم کرے۔ آپ چاہے زندگی کے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں یا اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوئی تحریک تلاش کر رہے ہیں، یہ کتاب ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے، اور ہر لمحے آپ کو رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

American Express
Apple Pay
Google Pay
Mastercard
Visa
All Rights Reserved © 2026